‏شھید نواز عرفانی کی یاد میں

تحریر: مشتاق حسین حکیمی
17 -12-2015

بسم رب الشہداء و الصدیقین
ولاتحسبن الذین قتلوا فی سبیل الله امواتا بل احیاء عند ربهم یرزقون. القرآن
یوں تو ہر انسان کو قرآنی دستور کے مطابق (کل نفس ذا‌ئقہ الموت) ایک دن مرنا ہے اور اس دنیا سے ابدی مقام کی طرف جانا ہے اور ہر کو‌ئی اپنے بساط کے مطابق زاد سفر مہیا کرتا ہے اس سفر کو ہر کسی نے طے کرنا ہے کسی کو اس سے چھوٹ نہیں لیکن کچھ مسافر نہایت انوکھے ہیں جنکا سفر اتنا آسان ہوتا ہے کہ سفر کہنے سے بھی زبان کتراتی ہے۔
ان مسافروں میں سے ایک مسافر شہید کہلاتا ہے شہادت وہ مقام ہے جس کو رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے یوں بیان کیا ہے (فوق کل ذی بر بر حتی یقتل فی سبیل الله فاذا قتل فی سبیل الله فلیس فوقه بر: یعنی ہر نیک کے کام سے بالاتر ایک اور نیک کام بھی ہے یہاں تک کہ انسان اللہ تعالی کی راہ میں مارا جا‌یے تو پھر اس سے بالاتر کو‌ئی اور نیک کام نہیں (وسائل الشیعه، ج11، ص10، حدیث 21)
شہادت دنیا میں انسان کی سعادت کی نہایت اعلی ترین ڈگری ہے اس سے بڑھ کر اور مقام نہیں تو اللہ تعالی اس مقام کو اس عہدے کو اور اس فضیلت کو صرف ان بندوں کے لیے عطا کرتا ہے جو ان کے ہاں سب سے زیادہ محبوب اور انکا کام سب سے زیادہ پسند ہو ایسے لوگوں کو شہید کہا جاتا ہے کیونکہ یہ لوگ پھر انسان کے ہر عمل پر ہر کام پر گواہ ہوتے ہیں۔ اسی لیے تو قرآن میں کہا گیا کہ شہید کو مردہ مت کہو وہ زندہ ہیں۔ اور جب زندہ ہیں تو انسان کے ہر ہر فعل پر شاہد اور گواہ ہیں۔
انہی مقام یافتہ اور ڈگری حاصل کرنے والے افراد میں سے ایک استاد محترم حجت الاسلام و المسلمین محمد نواز عرفانی صاحب قبلہ بھی ہیں جن پر اللہ تعالی نے خاص رحم کرم کیا اور اس( فَوقَ کُلِّ برٍّ برٌّ) کے درجے تک پہنچا دیا اور یہ انکے خلوص ایثار اور دین سے بے لوث محبت کا نتیجہ تھا
اس مختصر تحریر میں شہید اور شہادت پر بات کرنا مقصود نہیں بلکہ استاد محترم کی شہادت کے ایک سال گزرنے پر استاد محترم کی یاد تازہ کر رہا ہوں اور انکی زندگی کے کچھ پہلو یہاں اجاگر کرنا چاہتا ہوں۔
استاد محترم کی زندگی کو چار حصوں میں تقسیم کیا جاسکتا ہے۔
1۔ حوزہ علمیہ قم میں آنے سے پہلے کا دور
اس دور میں استاد محترم نے بہت ساری صعوبتیں برداشت کیں۔ آپ فرماتے تھے کہ جب انکے والد گرامی نے اسماعیلیہ مذھب سے شیعہ دوازدہ امامی مذہب کو انتخاب کیا تو اس وقت انکے رشتہ داروں کی طرف سے بہت ساری پابندیاں لگ گیں اور بہت سارے جھوٹے کیسز بنا کر انکے والد گرامی کو اذیت دی اور کیی سال تک ان کا مقابله کرتے رہے اور اس طرح سے کیی سال تک رشتہ داروں سے دور رہے ۔ پھرکچھ عرصہ بعد ہی جامعہ المنتظر لاہور میں ایک دینی طالب علم کی حیثیت سے دینی علوم حاصل کرنا شروع کیا اور نہایت بچپنا تھا لیکن دیگر سینیر طلاب کی مدد سے آپ وہاں پر کامیاب رہے وہاں سے فن خطابت پر بھی کام کیا اور مختصر عرصے بعد آپ حوزہ علمیہ قم تشریف لے آئے۔
2۔ حوزہ علمیہ قم کا دور
اس دور کے بارے میں استاد محترم فرمایا کرتے تھے کہ کل 9 سال حوزہ علمیہ میں گزارا ہے اور اس عرصے میں انکے دوستوں کا ایک 10 نفر پر مشتمل حلقہ تھا جنہوں نے خصوصی طور پر دورس پڑھنے کا سلسلہ شروع کیا اور اس مختصر عرصے میں سطحیات مکمل کر لیا اور جو کچھ پڑھا تھا ان دروس پر عبور حاصل تھا اسی عرصے میں آپ نے شادی بھی کی اور فیملی کو بھی حوزہ علمیہ قم میں منتقل کر لیا۔
3۔ تدریس کا دور
آپ نے باقاعدہ استاد کی حیثیت سے تدریس کا سلسلہ گلگت کے ایک دور افتادہ علاقہ حراموش ہنوچل سے شروع کیا جس وقت آپ کی عمر 33 سال تھی وہاں پر کو‌ئی بھی جانے کو تیار نہیں تھا چونکہ علاقہ گلگت شہر سے نہایت دور اور تمام تر امکانات اور سہولیات سے عاری تھا اس لیے مدرسے میں استاد کی ضرورت تھی لیکن جانے والا نہیں تھا لیکن استاد محترم نے یہ تشخیص دیا کہ اب وظیفہ اس بات کا تقاضا کرتا ہے کہ اس دور افتادہ مدرسے میں شاگردوں کی تربیت ہوجائے یوں آپ نے قم کو خیرباد کہتے ہوئے ہنوچل مدرسے کی طرف چل پڑے اور پوری فیملی کو لیکر اس دیہات میں منتقل ہوئے جبکہ واضح ہے ایک شہری زندگی کا آشنا شخص اور شہری زندگی والے کے لیے دیہات میں کس قدر مشکل ہوتا ہے۔ خیر وہاں پر علاقے میں آپ کی کافی مقبولیت ہو‌ئی اور وہاں پر بھی بہت ساری مشکلات برداشت کرنا پڑیں لیکن آپ نے اپنے تدریسی فرایض انجام دیکر اپنا مقررہ وقت تمام کر لیا۔
ہنوچل مدرسے میں تدریس کا سلسلہ مکمل کرنے کے بعد جب آپ اسلام آباد تشریف لے گیے تو قبلہ حجت الاسلام و المسلمین شیخ شفا نجفی صاحب قبلہ نے مرحوم حجت الاسلام و المسلمین شیخ علی مدد نجفی قدس سرہ سے آپکا تعارف کرایا چونکہ مدرسہ جعفریہ پاراچنار میں استاد کی اشد ضرورت تھی یوں قبلہ شفا نجفی صاحب کے کہنے پر آپ کو مرحوم شیخ صاحب نے ایک استاد کی حیثیت سے پاراچنار بلا لیا ۔
1995 کا سال تھا جب استاد محترم مدرسہ جعفریہ تشریف لے آیے اس وقت آپ کی عمر 35 سال کی تھی اور میں مدرسے میں طالب علم تھا ہمیں یہ کہا گیا تھا کہ گلگت سے ایک استاد آ رہے ہیں تو ہم ایک سن رسیدہ بزرگ کے منتظر تھے لیکن جس دن استاد محترم مدرسہ تشریف لے آیے تو پتہ چلا آپ تو مدرسہ ہذا میں موجود کچھ سینیر طلاب سے بھی عمر میں چھوٹے تھے۔ یا د ہے جب استاد محترم مدرسہ تشریف لے آیے تو سر پر سفید ٹوپی تھی جسے عموما علما کرام پہنا کرتے ہیں اور ایک ہشاش بشاش جوان تھے اور ہمیں کسی حد تک مایوسی ہوگیی کیونکہ ہم بھی اس جوان سے امیدیں وابستہ نہیں کرنا چاہتے تھے۔ مختصر علیک سلیک ہوگیی اور تعارف ہوا اور استاد محترم کو مختلف کلاسز دی گیی ان کلاسوں میں سے ایک کلاس ہماری تھی کتاب معالم الاصول پڑھانا تھا۔ اس کتاب کو یوں سمجھیں حوزہ علمیہ میں مشکل کتاب سمجھی جاتی ہے۔
خیر اللہ اللہ کر کے کلاس شروع ہوگیی اور پہلے دن ہی اندازہ ہوگیا استاد محترم بہت سارے سابقہ ان اساتذہ کرام سے قابل ہیں جن سے ہم نے کسب فیض کیا تھا اور یوں مختصر عرصے میں آپ نے مدرسے میں اپنا لوہا منوایا۔ اور مدرسہ جعفریہ میں پہلی بار کلاسوں کو جدید طرز پر بلیک بورڈ پر لکھ کر تدریس شروع کیا اور بہت ہی مفید واقع ہوا چونکہ اس سے پہلے بلیک بورڈ استعمال کرنا اساتذہ کرام پسند نہیں کرتے تھے۔
آپ کے آنے کے بعد مدرسے کے ماحول میں کافی تبدیلی آگیی اور طلاب اور اساتذہ کا باہمی رابطہ بڑھ گیا اور مدرسے کی ڈسپلن میں تبدیلی آگیی اور نہایت مختصر وقت میں مدرسہ کا رزلٹ پاکستان کے دینی مدارس میں ٹاپ کر گیا۔
اسی دوران 1996 کو حق و باطل کا معرکہ وجود میں آیا جسمیں استاد محترم اسیر ہوگیے اور کچھ عرصہ ملیشیا چھاونی میں استاد محترم کے ساتھ رہے اور پھر ہمیں کم عمری کی بنا پر وہیں سے 10 دن بعد قید سے رہا کیا لیکن استاد محترم کو دیگر اساتذہ طلاب کرام اور دیگر مومنین کے ہمراہ سب جیل جانا پڑا۔
ملیشیا چھاونی میں استاد محترم سیریس مریض بھی ہویے لیکن آپ نے ہسپتال جانے یا دوایی لینے سے انکار کیا اور کہا میں اگر مرونگا بھی تو یہی پر ان مومنین کے ساتھ رہوں گا۔ مدرسہ جعفریہ کے اساتذہ میں سے قبلہ حجت الاسلام و المسلمین فدا حسین مظاہری صاحب حجت الاسلام آقای عالمی صاحب اور حجت الاسلام اصغر رجایی صاحب بھی اسیری کے ایام میں استاد کے ہمراہ تھے اور ہم ان دنوں اساتذہ سے احکامات لیتے اور کبھی دعایے کمیل تو کبھی دعایے توسل اور دیگر دعائیں پڑھ کر اسیری کے ماحول کو عبادی ماحول میں تبدیل کر رہے تھے۔
اس عرصے میں چونکہ پاراچنار شہر میں ہمارا کویی دوست آشنا یا رشتہ دار نہیں تھا اور استاد محترم کو بھی کویی نہیں جانتا تھا اس لیے ہماری ملاقات کے لیے آنے والا کویی نہیں تھا البتہ اس میں استاد محترم بھی شامل تھے جب کم سن طلاب رہا ہویے تو جو پاراچنار کے تھے وہ تو گھر چلے گیے اور ہمیں اپنی تحویل میں لینے والا کویی نہیں تھا یوں ہم نے فوجی گاڑی کا رخ مدرسہ آیت اللہ خامنہ ای کی طرف کر دیا وہاں پر افعانستان کے کچھ طالب علم تھے انہوں نے ہمیں اپنی تحویل میں لیا یوں ایک رات مدرسہ آیت اللہ خامنہ ای میں گزاری اور صبح سویرے ہمارے ایک دوست کے (برادر اشتہار حسین اللہ انکو سلامت رکھے) گھر گیے ہمارے کپڑوں کی حالت نہایت ناگفتہ بہ تھی اشتہار بھایی کے ہاں سے کویی دس پندرہ جوڑے لاکر اپنے گلگت بلتستان کے برادران میں تقسیم کیا یوں اپنے کپڑے دھو کر ملیشیا چھاونی میں اپنے دیگر برادران اور اساتذہ کرام تک پہنچایا۔ اور اس دوران مدرسے کے اندر بھی نہیں جاسکتے تھے چونکہ ملیشیا کے کنٹرول میں تھا۔ انہی دنوں ملیشیا چھاونی میں استاد محترم پر تشدد بھی ہوا البتہ سب پر تشدد ہوا تھا تو اس میں استاد محترم بھی شامل تھے۔( جنگ کے واقعات بہت زیادہ ہیں یہاں ذکر کرنا مقصود نہیں)مزید دس دن کے بعد تمام اسیروں کو سب جیل منتقل کیا اور
سب جیل میں استاد محترم سے ملاقات کرنے چلا گیا وہاں پرآپ نہایت خوش نظر آرہے تھے لیکن پاراچنار کے مومنین نے جیل کے اندر کسی بھی قسم کی کمی کا احساس ہونے نہیں دیا تھا۔
اس عرصے میں چونکہ مرحوم شیخ علی مدد قدس سرہ بقید حیات تھے تو آپ صرف تدریسی سرگرمیوں میں مصروف تھے ہاں جب شیخ صاحب نہیں ہوتے تھے تو آپ کے کہنے پر نماز جماعت بھی پڑھایا کرتے تھے اور کمال تو یہ تھا کہ مختصر عرصے میں نماز جمعہ کا خطبہ بھی آپ نے شروع کیا اور وہ بھی پشتو زبان میں۔ البتہ آغاز میں تو آپ اپنے خطبے کو پشتو میں کاغذ پر تحریر کرتے تھے اور پریکٹس کرتے تھے کہ کہیں پشتو زبان میں غلطی نہ ہوجایے لیکن پھر آہست آہست مکمل طور پر پشتو پر عبور حاصل کر گیے جبکہ ہم آغا صاحب سے چار سال پہلے پاراچنار آیے تھے اتنی پشتو ہم بھی نہیں بول سکتے تھے۔ یوں آغا صاحب پاراچنار میں چھوٹے پیش نماز کے نام سے معروف ہوگیے۔ دو سال کا عرصہ مکمل ہوگیا اور یوں مدرسے میں آپ کا تدریسی ٹائم پورا ہوگیا اور آپ کو واپس قم جانا تھا لیکن قبلہ شیخ صاحب نے آپ کو جانے سے منع کیا یوں آپ ہمیشہ ہمیشہ کے لیے پاراچنار میں مقیم ہوگیے۔ اس عرصے میں آپ نے پوری توجہ مدرسے کی تعلیمی ساکھ پر دی اور مدرسہ آیے دن عروج کی منازل طے کرتا رہا۔ انہی دنوں 1999 کو میں نے پاراچنار کو چھوڑ کر قم کی سرزمین پر قدم رکھا اور استاد محترم سے کافی درو چلے آیے۔
4۔ پاراچنار کی مدیریت اور قیادت کا دور
مرحوم شیخ علی مدد نجفی صاحب نے جب آپ میں تمام صلاحیتوں کو پایا تو اپنی زندگی میں ہی آپکو اپنا جانشین معرفی کیا اور باقاعدہ سے اس کا اعلان بھی کیا یوں شیخ صاحب کی قوم ملت کے لیے شب و روز کی کاوشوں کے بعد جب ملکوتی پرواز کیا تو آپ نے اپنی ذمہ داری کا باقاعدہ سے آغاز کیا اور احسن طریقے سے اس ذمہ داری کو نبھایا۔ گرچہ اس عرصے میں استاد محترم کو بہت سختیاں برداشت کرنا پڑیں لیکن اپنے موقف پر ڈٹے رہے۔
پاراچنار پر دشمن کا یلغار ہوا محاصرہ ہوا جنگ ہویی لیکن آپ نے کسی بھی قسم کی کوتاہی نہیں کی اور ہر موڈ پر آپ سب سے آگے رہے خاص کر طالبان کا پاراچنار پر حملے میں آپ ایک مجاہد کی طرح مورچوں میں مجاہدین کے ساتھ حوصلہ دیتے رہے۔ اور دوسری طرف پاراچنار کی مدیریت بھی کی ۔ اس عرصے میں ایک طرف سے پاراچنار کے بیرونی مسائل سنبھالنے تھے تو ساتھ میں مدرسہ بھی سنبھالا
1999 کے بعد جب سے میں نے پاراچنار چھوڑ دیا اس کے بعد سے پھر کبھی استاد محترم سے ملاقات نہیں ہویی صرف فون کے ذریعے رابطہ تھا اور اکثر اوقات استاد محترم خود فون کیا کرتے تھےاور اکثر بیشتر آپکے فون کرنے کا ٹا‌ئم صبح کا وقت ہوتا تھا اور فرمایا کرتے تھے کہ دن کو پھر فرصت ہی نہیں ملتی ہے کبھی کہیں کبھی کہیں جانا پڑتا ہے یا مختلف ملاقاتوں سے فرصت نہیں ملتی ہے۔
آپ نے مدرسہ کے لیے تین استاد کا تقاضا کیا لیکن کسی میں بھی دم نہیں تھا سب یہی کہتے تھے کہ جنگی حالات میں وہاں نہیں جاسکتے ہیں جبکہ یہ مرد قلندر اس پورے عرصے میں سیسہ پلایی ہویی دیوار بن کر ڈٹا رہا۔
ایک دن استاد محترم سے فون پر بات ہو رہی تھی تو آپ نے شکایت کی کہ یہاں کویی بھی نہیں جو میرا ہاتھ بٹایے میں اکیلا مدرسہ سنبھالوں یا مسجد یا پاراچنار ۔ کم از کم ایک شخص مدرسہ سنبھالے تو میں باقی امور خود نبھاوں گا یا ایک مسجد سنبھالے تو میں پارچنار کے دیگر مسائل سنبھالوں گا کویی بھی ہاتھ بٹانے کو تیار نہیں یاد رکھو جب مشکل وقت میں کسی نے میرے ساتھ نہیں دیا ہے تو سکھ کے وقت کسی کی مجھے ضرورت نہیں پڑے گی۔
استاد محترم کا پاراچنار میں بڑا مقام تھا بلکہ یوں کہوں پیش نماز کا پاراچنار میں بڑا مقام ہوتا ہے شاید بہت سارے اس مقام کے حصول کے لیے ترستے ہونگے لیکن استاد محترم بالکل بھی اس مقام کے خواہاں نہیں تھے اسی وجہ سے ایک بار آپ نے پاراچنار کو ہمیشہ ہمیشہ کے لیے ترک کر کے گلگت چلے گیے اور آپ فرماتے تھے کہ پاراچنار کے مومنین نے وہاں تک آکر مجھے رہنے نہیں دیا بلکہ حجت الاسلام و المسلمین سید رحت حسین الحسینی کو واسطہ بنا کر مجھے دوبارہ پاراچنار لوٹنے پر مجبور کردیا۔
اس کے بعد بھی استاد محترم نے دیکھا کہ کچھ لوگوں کو آپ کا پاراچنار میں رہنا پسند نہیں تو آپ نے پوری کوشش کی کہ کسی کو اپنی جگہ رکھ کر خود چلا جایے لیکن یہ فرصت آپ کو نہیں ملی ۔ ایک دن پھر اسی بات پر استاد محترم سے بات ہو رہی تھی تو میں نے یہ تجویز دی کہ استاد محترم آپ کسی مقامی شخص کو ذمہ داری دیں تاکہ وہ خود پاراچنار کے مصالح اور مفاسد کو بہتر جانتے ہیں تو آپ نے فرمایا بات تو صحیح ہے لیکن اس کے پس منظر میں مفاسد بہت زیادہ ہیں مجھے خدشہ ہے کہ اگر ایسا کیا تو مزید اندرونی خلفشار کا شکار ہونگے۔
آپ کی کوشش تھی کہ مرحوم شیخ علی مدد نجفی قدس سرہ کے فرزند ارجمند مرتضی علوی کو یہ ذمہ داری سونپیں تو چونکہ اسی سالہ برادر مرتضی حوزہ علمیہ قم تشریف لے آیے تھے اس لیے میں نے استاد کو مشورہ دیا کہ قبلہ مرتضی صاحب نہایت قابل اور لایق فرد ہیں لیکن ابھی انکی عمر کا تقاضا نہیں چند سال آپ صبر کریں اور انکو کچھ پڑھنے کا موقع دیں تاکہ علمی اعتبار سے وہ اپنا لوہا منوا سکیں۔ شاید استاد محترم کو میری بات پسند آیی یا اور کویی وجہ تھی جس کی وجہ سے قبلہ مرتضی علوی صاحب کو بھی یہ زمہ داری نہیں دی گیی۔
خیر بہت سارے آپشنز استاد محترم نے پیش کیے لیکن تجویز یہی تھی کہ خود استاد محترم ہی اس کٹھن دور میں مناسب ہیں جس پر آپ نے تمام تر صعوبتوں کو تحمل کر کے ایک بار پھر سے پاراچنار کو ہمیشہ ہمیشہ کے لیے انتخاب کیا۔
لیکن
نہیں معلوم کیا سازش تھی کہ استاد محترم کو پاراچنار آنے پر پابندی لگا دی گیی لیکن اس کے باوجود آپ نے جرائت کا مظاہرہ کرتے ہو‌یے پاراچنار پہنچے۔اور مرحوم شیخ علی مدد نجفی قبلہ کی سیرت پر چلتے ہو‌یے تمام تر رکاوٹوں کو دور کرتا ہوا پاراچنار میں قدم رکھا مجھے یاد ہے 1996 کی جنگ کے دوران مرحوم شیخ صاحب کراچی ایک ہسپتال میں زیر علاج تھے اور اسی دوران آپ پشاور تشریف لے آیے اور پاراچنار میں کارفیو تھا اس کے باوجود شیخ صاحب جان ہتھیلی پر رکھ کر خفیہ طور سے پاراچنار پہنچے یہ تو صرف پاراچنار والے ہی سمجھ سکتے ہیں کہ اس خطرناک راستہ کو آپ نے کیسے طے کیا ۔ استاد محترم بھی پاراچنار تشریف لے آیے اور اس کے بعد بعض افراد نے مشورہ دیا کہ حالات خراب ہیں آپ پاراچنار چھوڑ دیں ہم خود اس کو حل کرینگے اور آپ کو بلا لینگے۔ (الیکشن کے حوالے سے بھی بہت ساری باتیں استاد محترم سے ہوئیں لیکن اب وقت گزرگیا ہے تو بیان کرنا مناسب نہیں)
نہیں معلوم کیا راز تھی آپ کو اسلام آباد جانا پڑا اس کے بعد پھر کو شش بھی نظر نہیں آیی جو استاد محترم کو بلایا جایے بلکہ آہستہ آہستہ حالات بدلتے نظر آیے اور یوں وہ منظر بھی وفاقی دار الحکومت اسلام آباد میں ہمیں دیکھنے کو ملا کہ استاد محترم کا وہ پاکیزہ بدن خون میں لت پت ہے ہر طرف لاکھوں آنکھیں اشکبار۔
اب استاد کی صرف یادیں باقی ہیں اور ہم انہی خاطرات اور واقعات کی یاد کرتے ہویے استاد محترم کی یاد تازہ کرتے ہیں۔

Leave a Reply

www.000webhost.com