شہید علامہ محمد نوازعرفانی کی حالات زندگی

تحریر: مشتاق حسین حکیمی

​آپ یکم جنوری 1970 کو گلگت کے علاقے دنیور میں پیدا ہوئے اور ابتدائی تعلیم وہیں سے حاصل کی آپ کا گھرانہ ایک اسماعیلی مذھب سے متعلق گھرانہ تھا لیکن آپ کے دادا یا والد گرامی نے مذہب حقہ کو اسماعیلی مذہب پر فوقیت دیکر امامیہ اثناعشریہ مذہب سے منسلک ہوا اور اس کے نتیجے میں بہت ساری پریشانیاں اور صعوبتیں برداشت کرنا پڑی اور یہ ایک واضح امر ہے کہ تمام رشتہ داریوں کو خیر باد کہہ کر دوسرے عقیدے کو اپنانا ایک خدا صفت شخص ہی کرسکتا ہے اور ہر کسی کے بس کی بات نہیں.

آپ کے والد گرامی نے ان تمام تر صعوبتوں کو تحمل کر کے اپنے اس فرزند ارجمند کو حوزہ علمیہ جامعہ المنتظر لاہور کی طرف بھیجا وہاں پر آپ نے دینی تعلیم حاصل کی اور بزرگ علما کرام سے مستفید ہوئے اور آپ نے مدرسے کی زندگی میں بھی ماں باپ کے عقیدے کو خاندانی عقیدہ سمجھ کر نہیں بلکہ ایک شیعہ اثنا عشری ہونے کے باوجود مختلف شکلوں میں اور مختلف بہانوں سے اسماعیلی جماعت خانہ جاکر مختلف کتابیں حاصل کیں اور انکا بغور مطالعہ کیا. مرحوم فرماتے تھے کہ کئی مرتبہ تو جماعت خانے کے گیٹ سے ان کو اندر جانے تک نہیں دیا کیوںکہ ہر کوئی جماعت خانہ نہیں جاسکتا ہے. آپ نے پوری ریسرچ کرنے کے ٹھوس دلائل سے اپنے اجدادی عقیدے کو ٹھکرایا اور ایک راسخ العقیدہ شیعہ بن گئے

منتظر سے ابتدائی تعلیم حاصل کرنے کے بعد آپ قم کی سرزمین پر تشریف لائے اور وہاں مجتہدین کرام کے دروس خارج میں شرکت کی قم میں آپ صرف 9 سال رہے اور اس عرصے میں مرحوم کے بقول ایک خصوصی استاد کے پاس درس پڑھا کرتے تھے جس میں یہ 11 طالبعلم ہوتے تھے اور بڑی محنت کے ساتھ اس مختصر عرصے میں تعلیم حاصل کی

آپ میں ابتدا ہی سے قوم اور ملت کی خدمت کرنے کا جزبہ کوٹ کوٹ کر بھرا تھا اور اسی لئے آپ ایک مدرس کی حیثیت سے گلگت کے ایک دور افتادہ گاوں ہنوچل حراموش میں ایک مدرسے میں دو سال تک تدریس کے فرایض انجام دیتے رہے اور وہاں پر جو مشکلات آپ کو پیش آئیں کچھ مصلحتوں کی بنا پر میں یہاں رقم نہیں کرسکتا. وہاں سے دو سال پورے ہونے کے بعد قبلہ حجت الاسلام و المسلمین شیخ محمد شفا نجفی صاحب نے آپکا تعارف مرحوم شیخ علی مدد صاحب سے کرایا اور آپ کی علمی صلاحیت سے آپ کو مطمئن کرایا تو اس طرح آپ مرحوم شیخ علی مدد صاحب کے توسط پاراچنار مدرسہ جعفریہ میں تقریبا 1995 میں ایک استاد کی حیثیت سے تشریف لے آئے.

چونکہ آپ دیگر اساتذہ سے کم عمر تھے اور بعض مدرسے کے موجودہ طالبعلم بھی شاید آپ سے عمر میں بڑے تھے تو کچھ لوگ آپ کو نظروں میں نہیں لاتے تھے. مجھے یاد ہے کہ جب معالم الاصول کا درس ہوتا تھا تو کلاس میں ہم 4 طالبعلم ہوا کرتے تھے آپ کا امتحان لینے کچھ طالبعلم دروازے کے پیچھے رہ کر سنا کرتے تھے. بعد میں جب ہم نے ان طالبعلموں سے پوچھا تو وہ کہہ رہے تھے کہ آقای عرفانی بے مثال ہیں اور اسطرح سے بہت سارے دیگر سینیر طالب علم بھی آپ سے کسب فیض کرنے کے درپے ہوئے.

آپ عربی ادبیات, منطق, فقہ , اصول فقہ اور دیگر علوم میں کافی مہارت رکھتے تھے اور ہر میدان میں اپنی مثال آپ تھے.

مدرسہ جعفریہ میں آپ کی تشریف آوری کے بعد مدرسے میں اور رونق آگئی اور کمزور طالبعلموں پر آپ نے خصوصی توجہ دی جس کے نتیجے میں مدرسہ جعفریہ پاراچنار کئی بار پاکستان کے مدارس میں اول رہا.

آپ کے پاراچنار آنے کے فورا بعد 1996 میں حق و باطل کا وہ عظیم اور غافلگیر معرکہ پیش آیا کہ جسکا کسی کو گمان تک نہ تھا.

دو دن کی لڑائی کے بعد پورا شہر میں کرفیو لگا اور کچھ افراد کی غفلت سے ملیشیا فوج مدرسہ, مسجد اور امام بارگاہ پر قابض ہوئی لیکن اس کے باوجود مدرسے میں اساتذہ اور طالبعلم مقیم رہے آخر کار مدرسے میں بھی کرفیو لگانے کا سوچا لیکن اساتذہ کی بصیرت سے ناکام رہے اور آخر کار سب کو گرفتار کر کے ملیشیا چھاونی میں لے گئے وہاں پر مدرسے کے دیگر اساتذہ کے ساتھ شہید عرفانی بھی تھے. چونکہ میں بھی ان کے ساتھ تھا اور قریب سے ان حالات کو دیکھا ہے تو میرے لئے احساس ہے کہ کتنا سخت تھا وہ مرحلہ.

وہاں پر شہید آغا سیریس مریض ہوئے اور چونکہ سب نے بھوک ہڑتال کیا ہوا تھا اس لئے بیمار ہونے کے باوجود آغا شہید نے کچھ کھانے سے انکار کر دیا. اس طرح 13 دن کے بعد دیگر اساتذہ اور طلاب کے ہمراہ آپ کو بھی سب جیل منتقل کیا

اس وقت مرحوم شیخ علی مدد صاحب علیل ہونے کی وجہ سے کراچی زیر علاج تھے اور شہید آغا آپ کی نیابت کر رہے تھے تو اس لئے بھی آپ کو ملیشیا کے اندر بہت ساری تکلیفیں برداشت کرنا پڑیں.

ملیشیا چھاونی میں طلاب اور اساتذہ پر بہت تشدد ہوا تھا لیکن اس وقت میری عمر کم ہونے کی وجہ سے 8 دن بعد ہی ہمیں آزاد کیا تھا لیکن استاد محترم اور دیگر اساتذہ اور دوستوں پر سخت تشدد کیا تھا.

اسطرح سے وہ مرحلہ بھی گزر گیا اور شہید آغا جن دو سالوں کے لئے پاراچنار تشریف لائے تھے وہ مدت ختم ہوئی اور ایک دفعہ پھر آپ نے پاراچنار سے جانا کا سوچا لیکن مرحوم پیش نماز آغا نے آپ کو سختی سے روکا اور شاید اسوقت ہی مرحوم پیش نماز نے آپ کی صلاحیتوں کو جان لیا تھا.

آپ نے کچھ عرصہ کالج کالونی پاراچنار کی مسجد میں بھی نماز پڑھائی اور قابل غور بات یہ تھی کہ مختصر تین سال کے عرصے میں آپ نے پشتو زبان پر عبور حاصل کیا جبکہ میں خود 1992 سے وہاں تھا اور صحیح سے نہیں بول پاتا تھا لیکن شہید آغا نے تو جمعہ کے خطبے بھی پشتو میں شروع کیا. یوں شہید آغا اجتماعی میدان میں کود پڑا

پھر وہ وقت بھی آیا کہ پاراچنار کی غیور عوام پر مصیبت کا تیسرا پہاڑ ٹوٹا اور مرحوم شیخ رجب علی اور شہید قائد عارف الحسینی کے بعد مرحوم شیخ علی مدد کی المناک ارتحال بھی قوم کو دیکھنا پڑا لیکن شیخ مرحوم نے اپنی اس سفر آخرت سے پہلے ہی شہید آغا کو اپنا جانشین منتخب کیا تھا تو اس طرح طوری قوم بہت جلد ہی سہارا ملا.

لیکن اب شہید آغا کو یکے پس از دیگری سنگین مسائل کا روبرو ہونا پڑا کہیں داخلی مسائل تو کہیں طالبان اور دہشتگرد تنظیموں کا مقابلہ اور کہیں اپنوں کی تہمتوں اور شخصیت کشی تو کہیں بیرون ملکی عوامل کی طرف سے یلغار,

چونکہ 1999 کے بعد سے میں خود پاراچنار میں موجود نہیں تھا تو اس لئے دیگر واقعات کو من و عن بیان کرنے سے قاصر ہوں صرف ٹلیفونک رابطہ وہ بھی کبھی کبھار ہوتا تھا اور کرم ایجنسی کے مسائل پر مختصر بات ہوتی تھی

جب پاراچنار چاروں طرف سے محاصرے میں تھا تو اس وقت شہید آغا کی مقاومت اور طوری قوم کی بہادری کے سبب مومنین کامیاب رہے.

لیکن اب بات کی وضاحت یہاں ضروری سمجھتا ہوں کہ شہید آغا یا مرحوم شیخ علی مدد کے خلاف کچھ پروپیگنڈے کئے گئے اس میں سے ایک یہ تھا کہ آپ بزرگان ولایت فقیہ کے مخالف ہیں جبکہ 1992 سے لیکر 1999 تک میں پاراچنار میں رہا اور ہر نماز کے بعد و اید قائدنا الخامنہ ای کی دعا پڑھا کرتے تھے. اور مدرسے میں تو ہر روز صبح سویرے انقلاب اسلامی ایرانے کے ترانے مجموعی شکل میں پڑھا کرتے تھے…..

تو یہ الزام کیوں آیا؟

اس کی بنیادی وجہ یہ تھی کہ قائد شہید کے المناک شہادت کے بعد شیخ علی مدد مرحوم آہستہ آہستہ کچھ علل و عوامل کی وجہ سے تحریک جعفریہ سے لاتعلق ہوئے جس پر آپ کے مخالفین نے تحریک جعفریہ کے پلیٹ فارم سے آپ کے خلاف خوب پروپیگنڈہ کیا اور سب سے زیادہ جس بات سے آپکو بدنام کیا وہ ضد ولایت فقیہ کا الزام تھا جبکہ مدرسے کی دیواروں پر امام خمینی اور مقام معظم رہبری کی وہ آویزاں تصاویر اس بات کی نفی کرتی تھیں. اسطرح سے جہاں تک آپ کو ولایت فقیہ کا مخالف معرفی کیا ساتھ ہی ساتھ تحریک جعفریہ کا مخالف بھی قرار دیا گیا جبکہ پاراچنار مرکز کا یہ شیوہ رہا ہے وہاں کے داخلی حالت کی نزاکت کو مدنظر رکھتے ہوئے وفاقی دینی پارٹیوں سے دور رہیں اور یہی مرحوم شیخ کے دور میں بھی تھا اور شہید آغا کے دور میں بھی.

لیکن مخالف نے اس سے بھی خوب استفادہ کیا جبکہ مجھے یاد ہے کہ داخلی کسی مسئلے میں قبلہ علامہ ساجد علی نقوی کی طرف سے ایک وفد بھیجا گیا تھا تقی شاہ صاحب کی سربراہی میں اسی میں کچھ علما اپنی طرف سے بھی آئے تھے تو مرحوم شیخ صاحب نے یوں فرمایا کہ جو قائد صاحب کی طرف سے تشریف لائے ہیں وہ علما ہم سے مذاکرہ کر سکتے ہیں. لیکن جیسے ہی مخالفین نے تحریک جعفریہ کو چھوڑا تو مجھے یاد ہے شہید انور علی آخوند زادہ صاحب جو پہلے مخالف تھے اب ہمیشہ اپنے بیانات میں مرحوم شیخ کی مدح سرایی کرتے نظر آتے تھے اس طرح سے مخالفین نے ایک بار پھر شیخ صاحب کو تحریک جعفریہ کا قرار دیا اور خود اس کے مخالف.

پھر شیخ مرحوم کی ارتحال کے بعد شہید آغا نے ذمہ داری سنبھالی تو پھر شروع میں آپکو تحریک جعفریہ کا قرار دیا اور مجلس وحدت مسلمین کا مخالف. اور اس طرح ایم ڈبلیو ایم کے پلیٹ فارم سے آپکی مخالفت شروع کی.

کسی بزرگ عالم نے چند مہینے پہلے مجھ سے پوچھا کہ کیا وجہ ہے کہ شیخ علی مدد صاحب تحریک کے مخالف تھے لیکن نواز عرفانی صاحب تحریک کے موافق

تو میں نے یہی عرض کیا پاراچنار کا مرکز بے طرف ہے اور کسی بھی پارٹی سے انکو دلچسپی نہیں یا علاقے کی صورتحال کو مدنظر رکھ کر کسی پارٹی کی حمایت نہیں کر سکتے ہیں لیکن مخالفین اس کو خوب ہوا دے رہے ہیں کہ فلاں کا مخالف تو فلاں کا موفق……

اور آغا کی شہادت کے بعد آپ کو مجلس وحدت المسلمین کا راہنما قرار دیا گیا جبکہ آپ کا کسی بھی پارٹی سے کسی قسم کا تعلق نہیں تھا بلکہ یہ مخالفین تھے کبھی آپکو تحریک کا قرار دیا تو کبھی تحریک کا مخالف…..

دوسرا بڑا الزام یہ لگایا کہ شہید آغا کسی مجتہد کا نمایندہ نہیں یا بعض لوگوں نے تو 30/10/1992 کو آیت اللہ شہرستانی سے آپکی آیت اللہ العظمی کی وکالت منسوخ کرنے کی خبر تک اینٹرنٹ پر دیا ۔

جبکہ ایران کے مشہور اخبار اطلاعات کے مطابق 30 اکتوبر 2014 کو پاکستان کے ایک ایم این اے سے ملاقات میں آیت اللہ العظمی میں پاراچنار کے بارے میں بتایا کہ پاراچنار کے شیعوں کو میرے نمایندے نواز عرفانی کی تعاون سے حل کیا جائے۔ اسیطرح آپ کو گورنمنٹ کا ایجنٹ قرار دیا اور حتی بعض لوگوں نے تو آپ کی مذہب تک پر بات کی لیکن ساری باتیں سراب ہوگئی اور دیکھا گیا کہ گورنمنٹ کسی کی پشت پناہی کر رہی تھی اور اللہ تعالی نے آپ کو عظیم المرتب درجہ شہادت سے سرافراز فرمایا

کہنے کا مقصد یہ ہے کہ ایسے قسم خوردہ دشمنوں اور اپنے کچھ مغرض دوستوں کی ناکام کوششوں کے باوجود شہید آغا ڈٹے رہے.

اور آخر کار وہ دن بھی آیا ہماری نا اہلی اور خود غرضی کی وجہ سے آپ کو پاراچنار کا محفوظ قلعہ ترک کرنا پڑا اور جس کے نتیجے میں 26 نومبر2014 کو پاراچنار کی غیور عوام پر ایک اور مصیبت بھی آگئی اور شہید آغا کی قیادت اور راہنمایی سے بھی محروم ہوگئیں.

Leave a Reply

www.000webhost.com